بہر لمحہ زمین و آسماں پر

بہر لمحہ زمین و آسماں پر

درودِ پاک ہے ہر اِک زباں پر

 

ہے احسانِ عظیم اُس پاک رب کا

جو بھیجا ہے محمد کو یہاں پر

 

فقط دنیا نہیں محکوم ان کی

ہے ان کی حکمرانی دو جہاں پر

 

جھکا دی ہے خدا نے ساری مخلوق

محمد مصطفے کے آستاں پر

 

انہی کا نورِ رحمت چار سُو ہے

انہی کا سایہ ہے دونوں جہاں پر

 

ستائے ہیں زمانے کے ہم، آقا

کریں بس اک نظر ہم بے کساں پر

 

غلامی میں جو آ جائے نبی کی

نظر رکھے وہ کیوں سود و زیاں پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ