اردوئے معلیٰ

Search

بہ ہر پہلو مجھے آٹھوں پہر معلوم ہوتی ہے

محبت کی خلش اب معتبر معلوم ہوتی ہے

 

تقاضے لا الہ کے ہم نفس اُتنے ہی زیادہ ہیں

بظاہر بات جتنی مختصر معلوم ہوتی ہے

 

بہ ہر لغزش جھجکتا ہوں، سنبھلتا ہوں، ٹھہرتا ہوں

نگہباں رحمتِ خیر البشر معلوم ہوتی ہے

 

خدا بیزاریِ دنیا فزوں تر آئے دن ہے کیوں

یہ تہذیبِ فرنگی فتنہ گر معلوم ہوتی ہے

 

مہ و خورشید و ابر و برق و باراں، موجۂ صر صر

کوئی ہستی نظرؔ فوق البشر معلوم ہوتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ