اردوئے معلیٰ

بیان کرتا رہوں یوں ہی عظمتِ آقا

بیان کرتا رہوں یوں ہی عظمتِ آقا

مری حیات کا مقصد ہے مدحتِ آقا

 

خدا کا شکر میں وابستہ ہوں درِ حق سے

خدا کا شکر سلامت ہے نسبتِ آقا

 

یہی وہ در ہے جو کُھلتا ہے خلد کی جانب

کسی بھی حال میں چھوڑو نہ سنّتِ آقا

 

حضور آپ کا طیبہ کو کوچ کر جانا

نہ بھول پائے گی مکے کو ہجرتِ آقا

 

اسی خیال نے سرشار مجھ کو رکھا ہے

ملے گی حشر میں مجھ کو بھی قربتِ آقا

 

کبھی بھی نعت کی محفل سے منہ نہیں پھیرا

فدا سمجھتا ہوں اس کو عنایتِ آقا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ