بے بسوں بے کسوں کی دعا مصطفیٰ

بے بسوں بے کسوں کی دعا مصطفیٰ

بے نواؤں کے ہیں ہمنوا مصطفیٰ

 

دے کے اذنِ حضوری درِ پاک کا

کیجئے غم سے مجھ کو رہا مصطفیٰ

 

یوں تو ہیں انبیاء بھی رسل بھی مگر

کون ہے مصطفیٰ کے سوا مصطفیٰ

 

رحمتِ کبریا سائباں بن گئی

دھوپ میں جب کسی نے کہا مصطفیٰ

 

شاہ پارہ ہے صناعِ لاریب کا

حسنِ بے مثل کی انتہا مصطفیٰ

 

یوں تو سب نعمتیں قیمتی ہیں مگر

رب کی سب سے بڑی ہے عطا مصطفیٰ

 

لب پہ اشفاقؔ نامِ محمد رہے

دل بھی کہتا رہے مصطفیٰ مصطفیٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ