اردوئے معلیٰ

Search

بے ثمر تھے ، در بدر تھے ، صیغہ ہائے عز و جاہ

بے اماں حرفوں کو تیری نعت نے بخشی پناہ

 

دل کے اوجِ عرش تک ہے یہ رگِ جاں میں رواں

’’ نحنُ اَقرَب ‘‘ کے اُفق سے منسلک ہے تیری چاہ

 

باعثِ صد داد و تحسیں تیری نسبت کا نیاز

نعت تیری حذبِ عالی ، ذکر تیرا ، واہ واہ

 

قافلے والے سبک رَو اور مَیں درماندہ دل

مجھ کو کافی ہے ترے شہرِ کرم کو جاتی راہ

 

قصۂ متروک و بے تاثیر تھی اپنی طلَب

شکر ہے احساس نے پائی ہے تیری بارگاہ

 

ناصیہ فرسا ہیں تیرے در پہ اہلِ کروفر

تیرے آگے سر بہ خم عالَم پناہ و کج کلاہ

 

شوق زارِ عجز میں مدحت سے ہُوں مَیں معتبر

نعت ہے میرا حوالہ ، حرف ہیں میرے گواہ

 

زلفِ عالَم تاب سے ہے صبح و شامِ زندگی

نقشِ نعلینِ کرم ہے نُور زارِ مہر و ماہ

 

چُھو نہیں سکتا اُسے دستِ حوادث کا زیاں

آپ جس کے چارہ گر ہیں ، آپ جس کے خیر خواہ

 

خالق و مخلوق میں ہیں آپ ربطِ محتشم

آپ مقصودِؔ دو عالَم ، آپ محبوبِ الہٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ