اردوئے معلیٰ

Search

بے سبب ہم بھی تہ دام نہ آئے ہوں گے

فرش نے عرش کے امکان دکھائے ہوں گے

 

سر جھکاتے ہیں جو ہر سنگ پہ کہہ کر لبیک

خوئے تسلیم تری بزم سے لائے ہوں گے

 

جن کے سینے میں دھڑکتا ہو کسی اور کا دل

لوگ ایسے بھی تو قدرت نے بنائے ہوں گے

 

اختلافاتِ نظر خود ہیں اُجالے کا ثبوت

جس جگہ روشنی ہو گی وہیں سائے ہوں گے

 

کیسے اک مشتِ عناصر میں دھڑکتی ہے حیات

راز کیا کیا گِل آدم میں سمائے ہوں گے

 

لائی ہے بادِ سحر راکھ، دھواں اور شبنم

اُس نے پھر خط مجھے لکھ لکھ کے جلائے ہوں گے

 

لوگ سن کر مرے اشعار اُسے جان گئے

کیا خبر تھی مرے لفظوں میں کنائے ہوں گے

 

دشتِ تعبیر میں ملتی نہیں منزل جو ہمیں

چشم رہبر میں کہیں خواب پرائے ہوں گے

 

دیئے میراث کے ٹوٹے ہوئے مت پھینک ظہیرؔ

کچھ اندھیرے بھی ترے حصے میں آئے ہوں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ