بے ضرورت ہے قیل و قالِ عرض

بے ضرورت ہے قیل و قالِ عرض

آشکارا ہے اُن پہ حالِ عرض

 

اُس سخی کے درِ عنایت پر

مفتخِر کیوں نہ ہو سوالِ عرض

 

حرف جُو ہی رہا درِ شہ پر

منفعل ہی رہا خیالِ عرض

 

کیا کرم ہے کہ بابِ مدحت میں

خامشی خود ہے اندمالِ عرض

 

بے تعطل رہا کرم اُس کا

اور معطل رہی مجالِ عرض

 

ہو رہی ہے جو نعت کی تشکیل

خود سے بنتے ہیں خدوخالِ عرض

 

مرجعِ لطف ہے تری دہلیز

مصدرِ کیف ہے مآلِ عرض

 

سلسلہ متصل ہے بخشش سے

اللہ اللہ اتصالِ عرض

 

بارگاہِ کفیلِ نعمت میں

ہے طَلب آشنا کمالِ عرض

 

عرضِ غم آنسوؤں میں ڈھلتی ہے

یوں بھی ہوتا ہے انتقالِ عرض

 

لطف یاور ہُوئے مدینے میں

میرے مقصودؔ ماہ و سال عرض

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ