اردوئے معلیٰ

بے طلب مل گئے برگ و بارِ عطا

مصطفی آپ کا یہ شعارِ عطا

 

والئی ملکِ جود وسخا آپ ہیں

بے بدل آپ کا ہے منارِ عطا

 

رب نے سارے خزانے دیے آپ کو

اور پھر دے دیا اختیارِ عطا

 

دامنِ آرزو بھر دیا آپ نے

اب کہاں حاجتِ انتظارِ عطا

 

گردشیں پاس آتی نہیں اس لیے

مجھ کو گھیرے ہوئے ہے حصارِ عطا

 

آپ کی چشم رحمت سے حاصل ہوئی

باغِ کون و مکاں کو بہارِ عطا

 

سارے عالم کی حاجت جو پوری کرے

وہ فقط آپ کا ہے دیارِ عطا

 

آشنا زندگی کو تحرک سے کر

خرمن دل میں آجا شرار عطا

 

بے کس و بے نوا کو غنی کرگئی

موجِ بحرِ کرم ، آبشارِ عطا

 

اک نظر کا سوالی ہے کشکولِ دل

اے امیرِ کرم ! تاجدارِ عطا!

 

باغِ توفیقِ مدحِ شہِ دیں میں ہوں

ہے صدف غیر ممکن شمارِ عطا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات