اردوئے معلیٰ

بے نوا ہوں مگر ملال نہیں

بے نوا ہوں مگر ملال نہیں

اشک، محتاجِ عرضِ حال نہیں

 

اے خیالِ رخِ شہِ خوباں

تیرے جیسا کوئی خیال نہیں

 

حسنِ صورت میں، حسنِ سیرت میں

مصطفیٰ کی کوئی مثال نہیں

 

نقشِ پائے حضور رہبر ہے

اب بھٹکنے کا احتمال نہیں

 

دولتِ حُبِ شاہ کے صدقے

مفلسی کا مجھے ملال نہیں

 

اُن کی رحمت ہے، میری قسمت میں

میرے اعمال کا مآل نہیں

 

نعت ان کے کرم سے ہوتی ہے

مجھ گدا میں کوئی کمال نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ