بے ہُنر ہو کے واہ واہ میں ہیں

بے ہُنر ہو کے واہ واہ میں ہیں

جو تری نعت کی پناہ میں ہیں

 

جس کو زیبا ہے شانِ دلداری

اُس نگہ دار کی نگاہ میں ہیں

 

آس میں اور اُس سے وابسطہ

گرد ہیں اور اُس کی راہ میں ہیں

 

نقشِ نعلین سے ہیں تابندہ

شوخیاں جتنی مہر و ماہ میں ہیں

 

ایک نسبت کی ہے طرفداری

خام خُو بھی حصارِ جاہ میں ہیں

 

کیا خطَر بادِ بے اماں سے اُنہیں

جو مدینے کی حرز گاہ میں ہیں

 

رفعتیں سب ترے کرم کی نقیب

عظمتیں سب تری سپاہ میں ہیں

 

ہم معاصی سرشت و بے تدبیر

حیطۂ عفوِ خیرخواہ میں ہیں

 

بے سبب بے خطر نہیں مقصودؔ

فیصلے سارے دستِ شاہ میں ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ