تاج کمال کنز عطا میرے ساتھ ہے

تاج کمال کنز عطا میرے ساتھ ہے

فیض نگاہِ شیرِ خدا میرے ساتھ ہے

 

میں پڑھ رہا ہوں سیرت مولائے کائنات

اک کائنات عشق و وفا میرے ساتھ ہے

 

روشن ہیں میرے ہونٹوں پہ مدح علی کے پھول

موج خرام باد صبا میرے ساتھ ہے

 

کیا لطف ہو اگر در جنت پہ وہ کہیں

مت روکو ، یہ غلام مرا ، میرے ساتھ ہے

 

نعرہ لگا دیا تھا ابھی میں نے یا علی

دیکھا تو جوش عزم و وغا میرے ساتھ ہے

 

مولا علی کے سایۂ رحمت میں جب سے ہوں

ہر اک قدم پہ ظلِ ہما میرے ساتھ ہے

 

کیسا مرض ہو ، زخم کوئی ، فکر کیا مجیبؔ

شہرِ نجف کی خاک شفا میرے ساتھ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ