تتلی سی کوئی پنکھ کی چادر سے اُڑی ہے

تتلی سی کوئی پنکھ کی چادر سے اُڑی ہے

یہ نیند مِری خواب کی ٹھوکر سے اُڑی ہے

 

شاید کسی بھوکے کو سُلا دے گی سکوں سے

گھنٹی کوئی پیتل کی جو مندر سے اُڑی ہے

 

آسیب زدہ ہوگا کہ اژدر کا ٹھکانہ

اُس پیڑ سے وہ چیل کسی ڈر سے اُڑی ہے

 

کیا ’’سنگ نظر‘‘ آگیا تھا شیشہ گروں میں؟

وہ کانچ کا پیکر کسی پتھر سے اُڑی ہے

 

بوسیدہ مکاں سا میں ، زمیں بوس ہوا ہوں

یہ خاک مِرے اپنے ہی اندر سے اُڑی ہے

 

زینت بنی ہے مرتضیٰ جو اُس کی جبیں کی

سلوٹ کہ شکن ہو مِرے بستر سے اُڑی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ