تتلی سی کوئی پنکھ کی چادر سے اُڑی ہے

تتلی سی کوئی پنکھ کی چادر سے اُڑی ہے

یہ نیند مِری خواب کی ٹھوکر سے اُڑی ہے

 

شاید کسی بھوکے کو سُلا دے گی سکوں سے

گھنٹی کوئی پیتل کی جو مندر سے اُڑی ہے

 

آسیب زدہ ہوگا کہ اژدر کا ٹھکانہ

اُس پیڑ سے وہ چیل کسی ڈر سے اُڑی ہے

 

کیا ’’سنگ نظر‘‘ آگیا تھا شیشہ گروں میں؟

وہ کانچ کا پیکر کسی پتھر سے اُڑی ہے

 

بوسیدہ مکاں سا میں ، زمیں بوس ہوا ہوں

یہ خاک مِرے اپنے ہی اندر سے اُڑی ہے

 

زینت بنی ہے مرتضیٰ جو اُس کی جبیں کی

سلوٹ کہ شکن ہو مِرے بستر سے اُڑی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو بادل گرج رہے ہیں جناب
اجرتِ آبلہ پائی بھی نہ دے گا سورج
مرے سینے میں اک ٹکڑا فسادی کردیا نا
سب توڑ دیں حدود ، مرا دل نہیں لگا
کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا
کوئی اپنی جھلک دِکھلا گیا ہے
آقا کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
بلا لے ہم کو بھی اب کے مدینے یا رسول اللہ
سوچ سفر
جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

اشتہارات