تجھی سے التجا ہے میرے اللہ

تجھی سے التجا ہے میرے اللہ

کہ تُو سب کا خدا ہے میرے اللہ

 

ہیں زیبا ساری تعریفیں تجھے ہی

کہ تُو سب سے بڑا ہے میرے اللہ

 

احد ہے ، تُو صمد ہے ، تُو ہے بے مثل

مجھے اتنا پتا ہے میرے اللہ

 

زمین و آسماں میں جو بھی ہے ، سب کا

تُو ہی فرمانروا ہے میرے اللہ

 

تُو ہی معبود ہے واحد ، عبادت

تجھی کو بس روا ہے میرے اللہ

 

مجھے تسلیم ہے تیری بڑائی

بڑا ہے ، تُو بڑا ہے میرے اللہ

 

فنا لازم ہے ہر شے کو جہاں میں

تجھی کو بس بقا ہے میرے اللہ

 

تری قدرت کا مظہر ہے جہاں میں

زمیں سے جو اُگا ہے میرے اللہ

 

یقیناً تیری منشا سے کھلا ہے

جہاں بھی گل کھلا ہے میرے اللہ

 

تری ہی بادشاہت ہے جہاں پر

تُو سب کا پیشوا ہے میرے اللہ

 

سوا تیرے جہاں بھر میں تکبّر

سبھی کو ناروا ہے میرے اللہ

 

زمین و آسماں تارے مہ و مہر

یہ سب تجھ پر فدا ہے میرے اللہ

 

تصدّق مصطفےٰ کے بخش دے تُو

مری جو بھی خطا ہے میرے اللہ

 

ق

 

ترا صد شکر ، تُو نے ہی ہمیشہ

مرا پردہ رکھا ہے میرے اللہ

 

مجھے محشر میں بھی رسوا نہ کرنا

ترا ہی آسرا ہے میرے اللہ

 

ق

 

چلا دانش کو سیدھے راستے پر

جو رستہ بس ترا ہے میرے اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے عالم نجوم و جواہر کے کردگار
برگِ گل، شاخ ہجر کا کر دے
جو سب سے پوشیدہ رہ کے سب کو لُبھا رہا ہے
میری ہر دھڑکن عبادت ہے تری، میرے خدا!
خدا کے نام سے ہی ابتدا ہے
خدا کی حمد کے اشعار بے خود گنگناتا ہوں
میانِ قعرِ دریا جس نے اللہ کو پُکارا ہے
اگر ہے جستجو رب کی رضا کی
خدا ہی دل رُبا و دل نشیں ہے
رحیم و مہرباں میرا خدا ہے