اردوئے معلیٰ

تجھ سے بچھڑ سکا نہ ترے ساتھ چل سکا

تجھ سے بچھڑ سکا نہ ترے ساتھ چل سکا

یہ کم نصیب عشق نہ خود کو بدل سکا

 

اَے مہربان رات ، مجھے نرمیوں سے چھُو

سو کوششوں کے بعد یہ خورشید ڈھل سکا

 

پتھرا گیا ہے سُوکھ کے دل تیرے چاک پر

مٹی رہا ہے اور نہ کُوزے میں ڈھل سکا

 

قربانیاں نہ دی گئیں کیا کیا شعور کی

وحشت کا ایک پل بڑی مشکل سے ٹل سکا

 

دل کو بھنبھوڑتا ہی رہا کربِ آگہی

یہ بھیڑیا کہ خون سے کم پر نہ پل سکا

 

ایندھن بنا دیا گیا اپنے وجود کو

تب جا کے اک چراغ تخیل کا جل سکا

 

تھا ایک دائرے میں کڑے کوس کا سفر

میں کب ترے مدار سے باہر نکل سکا

 

آنکھیں بھلے شکست کی حدت سے لال ہوں

ناصر ، مگر نہ ضبط کا آہن پگھل سکا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ