تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی

تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی

اللہ نام تیرا ، تیری ہی سب بڑائی

 

مالک ہے ، تو ہی خالق ، داتا ہے ، تو ہی آقا

سارا جہاں ہے تیرا ، ہے تیری کُل خدائی

 

صد شکر ، تُو نے ہم کو انسان ہے بنایا

بھیجا نبی پھر اپنا ، انسانیت سکھائی

 

مشکل کبھی جو آئی ، دکھ نے , غموں نے گھیرا

دامن ترا ہی تھاما ، لو تجھ سے ہی لگائی

 

تُو ہی تو ہے کہ جس نے ساحل پہ لا اتارا

کشتی یہ زندگی کی جب بھی ہے ڈگمگائی

 

جانا کہاں ہے ہم نے در چھوڑ کر تمہارا

چوکھٹ پہ بس تری ہی زیبا جبین سائی

 

کر ہی لِیا تھا مایوسی نے شکار اپنا

نسبت ترے نبی کی ایسے میں کام آئی

 

ق

 

آیا ہے سر خمیدہ , بوجھل بہ بارِ عصیاں

در پر کھڑا ہے لے کے بس کاسہِ گدائی

 

یا رب ! بحقِّ احمد ، دانش کو بخش دے تُو

حاضر ہے دست بستہ ، آنکھیں ہیں ڈبڈبائی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین و آسماں گُونجے بیک آواز، بسم اللہ
اَلحَمَّد توں لے کے وَالنَّاس تائیں​
اَزل سے یہی ایک سودا ہے سر میں
میری بس ایک آرزو چمکے
سخی داتا نہ کوئی تیرے جیسا
کرو رب کی عبادت، خدا کا حکم ہے یہ
تو خبیر ہے تو علیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
محبت کا نشاں ہے خانہ کعبہ
خدا ہی مرکزِ مہر و وفا ہے
کہوں میں حمدِ ربّی کس زباں سے