ترا معصوم لہجہ کون بھولے ترا تو

ترا معصوم لہجہ کون بھولے

ترا تو بولنا ہی سادگی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرتا مَیں کیا گُریز ترے خدّوخال سے
میرا دشمن چاہتا تھا، فیصلہ جنگل میں ہو
ہمارا بخت ہی ایسا کرخت نکلے گا
آئینہ ٹوٹ جائے گا اور پھر
لے قضا احسان تجھ پر کر چلے
ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ اُنگلیوں کے نشاں
اور ہوتے ہیں جو محفل میں خاموش آتے ہیں
تری رعایا بڑی دیر سے عذاب میں ہے
تخت و تاج نہیں ہے میرا میں پھر بھی شہزادی ہوں
پردیس میں رہ کے کوئی کیا پاؤں جمائے

اشتہارات