اردوئے معلیٰ

Search

ترمیمِ خال و خد کا وسیلہ نہیں رہا

کوزہ اتر کے چاک سے گیلا نہیں رہا

 

سائے کو رونے والے مسافر کو کیا خبر

پھل بھی اب اس شجر کا رسیلا نہیں رہا

 

اب تو ہمارے نام سے پہچانیے ہمیں

اب تو ہمارا کو ئی قبیلہ نہیں رہا

 

آباد کر دیا ہے بگولوں کو دشت نے

اب رہ گزر میں کوئی بھی ٹیلہ نہیں رہا

 

نو کیلے پتھرو ں پہ زوال آ گیا فراغؔ

آہنگ آب جو کا سریلا نہیں رہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ