ترویجِ صدقِ تام ہوئی، کذب مسترد

ترویجِ صدقِ تام ہوئی، کذب مسترد

مہکا زبانِ قُدس سے جب قولِ مستند

 

اُن کے کرم کا جاری رہا فیض سر بسر

اُن کی عطائے عام رہی ماورائے حد

 

نا بُود ہوتے جائیں گے باقی نظام سب

قائم رہے گا اُن کا ہی فرمان تا ابد

 

اِک صوتِ لا یزال نے منظر بدل دیے

جب ٹُوٹتے سخن نے کہا یا علی مدد

 

مانگے سے بھی سوا دیا، حاجت سے بھی ورا

کتنا طلب نواز تھا وہ فیض بار ید

 

رب معطیٔ تمام ہے، وہ قاسمِ تمام

تعبیر کس عدد سے ہو پھر جُودِ بے عدد

 

شامِ دمِ وصال ہے زلفوں کی دلکشی

صبحِ رخِ حیات ہے تنویرِ خال و خد

 

محشر میں خود کرے گی نمایاں غُلام کو

کافی ہے تیرے بَردہ کو نسبت کی اِک سند

 

گونجی تھی صوتِ نُور جو بدر و حُنین میں

آوازِ کفر آج بھی ہے اُس کے زیرِ زد

 

کاسہ بہ دست ہیں تری بخشش کے روبرو

محتاجِ فیض ہیں ترے، محشر میں نیک و بد

 

مقصودؔ ہم فقیروں کو کیا خوف، کیسا غم

آتی ہے بے دریغ درِ خیر سے رسد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ