اردوئے معلیٰ

Search

تری امید ترا انتظار جب سے ہے

نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے

 

کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم

گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے

 

ہوا ہے جب سے دل ناصبور بے قابو

کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے

 

اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے

طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے

 

کہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے

ستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ