اردوئے معلیٰ

Search

ترے در پہ آنسو بہانے بہت ہیں

مجھے زخم دل کے دکھانے بہت ہیں

 

پسارا نہیں ہم نے دامن کہیں بھی

ہمیں مصطفےٰ کے خزانے بہت ہیں

 

محمد سے جس نے بھی کی ہےمحبت

ملے اس کو رب سے ٹھکانے بہت ہیں

 

مجھے اور کیا چاہیے میرے آقا

مرے لب پہ تیرے ترانے بہت ہیں

 

چلو شہرِ طیبہ کو چلتے ہیں زاہدؔ

کہ منظر وہاں کے سہانے بہت ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ