ترے در پہ آنسو بہانے بہت ہیں

ترے در پہ آنسو بہانے بہت ہیں

مجھے زخم دل کے دکھانے بہت ہیں

 

پسارا نہیں ہم نے دامن کہیں بھی

ہمیں مصطفےٰ کے خزانے بہت ہیں

 

محمد سے جس نے بھی کی ہےمحبت

ملے اس کو رب سے ٹھکانے بہت ہیں

 

مجھے اور کیا چاہیے میرے آقا

مرے لب پہ تیرے ترانے بہت ہیں

 

چلو شہرِ طیبہ کو چلتے ہیں زاہدؔ

کہ منظر وہاں کے سہانے بہت ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
مرے آقاؐ، کرم مُجھ پر خُدارا
آپؐ کے پیار کے سہارے چلوں
نبیؐ کا گُلستاں ہے اور میں ہوں
ذکرِ نبیؐ سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے
آپ ہیں مصطفےٰ خاتم الانبیاء
وَالفَجر ترا چہرہ، والیل ترے گیسو

اشتہارات