ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن

ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن

نَو برس، گیارہ مہینے، سات دن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ھاں مَیں اُن سے واقف ھُوں، اچھے آدمی ھیں وہ
پھول بھی نقلی دیے اور عطر بھی جُھوٹا دیا
گماں یہی ہے کہ ہم لوگ زندہ رہ جائیں
چاشنی چاشنی لہجہ جس کا
ہاتھوں میں نازکی سے سنبھلتی نہیں جو تیغ
راہ الفت میں ملاقات ہوئی کس کس سے
اس کا درشت لہجہ اسے اس طرح
صدیوں میں کوئی ایک محبت ہوتی ہے
زندگی تجھ سے عبارت ہے میری جاں لیکن
شکستہ ہوں تو ہونے دو مری امید ٹوٹی ہے