ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن

ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن

نَو برس، گیارہ مہینے، سات دن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہائے رے مجبوریاں محرومیاں ناکامیاں
تو کیا برا ہے اگر خود سے کر لیا میں نے
یہ کس نے منظروں کو خاک کردیا کومل
ساتھ غالب کے گئی فکر کی گہرائی بھی
یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
کاش ایسا ہو کوئی بات ضروری رہ جائے
انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لئے
سالِ نو
 کہانی بحرین کی
یاد رکھ ، خُود کو مِٹائے گا تو چھا جائے گا

اشتہارات