ترے در کی ہم کو گدائی ملی ہے

ترے در کی ہم کو گدائی ملی ہے

زمانے کے غم سے رہائی ملی ہے

 

اُسی واسطے سے مری ہر دعا کو

خدا تک برابر رسائی ملی ہے

 

اُنہیں بھی کبھی اذن ہو حاضری کا

جنہیں ہجر یا پھر جدائی ملی ہے

 

اُنہیؐ کا کرم ہے مری زندگی پر

کہ جو چیز چاہی وہ پائی ، ملی ہے

 

خدا کی عطا سے انہیؐ کی محبت

مجھے جسم و جاں میں سمائی ملی ہے

 

عنایت ہے خیرالوریٰؐ کی یہ اشعرؔ

مجھے اُنؐ کی مدحت سرائی ملی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بحرِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو بے کرانی چاہیے
محمدؐ کا حُسن و جمال اللہ اللہ
دعوے جو میں کرتا ہوں سرکار ﷺ کی اُلفت میں
جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے
لبِ سرکارؐ سے گلشن میں پھولوں کا قرینہ ہے
بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
سبھی کو ہو مبارک آج وہ روشن جبیں آیا
تاجدار جہاں یا نبی محترم (درود و سلام)
نوعِ اِنساں کی بہتری کے لیے
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے