اردوئے معلیٰ

ترے در کی ہم کو گدائی ملی ہے

ترے در کی ہم کو گدائی ملی ہے

زمانے کے غم سے رہائی ملی ہے

 

اُسی واسطے سے مری ہر دعا کو

خدا تک برابر رسائی ملی ہے

 

اُنہیں بھی کبھی اذن ہو حاضری کا

جنہیں ہجر یا پھر جدائی ملی ہے

 

اُنہی کا کرم ہے مری زندگی پر

کہ جو چیز چاہی وہ پائی ، ملی ہے

 

خدا کی عطا سے انہی کی محبت

مجھے جسم و جاں میں سمائی ملی ہے

 

عنایت ہے خیرالوریٰ کی یہ اشعرؔ

مجھے اُن کی مدحت سرائی ملی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ