ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا

ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا

فسانے سُنے ہم نے کل رات کیا کیا

 

تُو رونے لگے گا اگر میں بتا دوں

کہ ہنس ہنس کے جھیلے ہیں صدمات کیا کیا

 

وضو، قرأتِ آیت عشق ، گریہ

تری دید کی ہیں رسومات کیا کیا

 

کبھی چال بدلی ، کبھی راہ بدلی

کیے ہیں ترے پاؤں نے ہاتھ کیا کیا

 

میں جسموں کے جنگل سے گُزرا تھا اک دن

کِھلے تھے درختوں پہ گُل پات کیا کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ایک انگڑائی مرے سامنے لہرانے لگی
عام سا اِک دن
گلی سے ہجر گُذرا ہے یقیناََ
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
ضبط کے امتحان سے نکلا
بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا
خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں
ہر چیز مُشترک تھی ہماری سوائے نام
اِک تُو ہی نظر آئے جس سمت نظر جائے