ترے عشق کے تو چرچے سرِ عرش چل رہے ہیں

ترے عشق کے تو چرچے سرِ عرش چل رہے ہیں

وہ نکھر کے آئے جلوے جو سرِ ازل رہے ہیں

 

یہی لگ رہا ہے مجھکو تری زلف پر فدا ہیں

سرِ شام اس جہاں میں جو یہ سائے ڈھل رہے ہیں

 

وہ ہیں ہر طرف کے مالک کسی سمت سے بھی آئیں

ہے یہی سبب کہ کروٹ یہ بشر بدل رہے ہیں

 

کبھی پھر براق لیکر شہ دیں ادھر سے گزریں

انھیں حسرتوں میں تارے شبِ غم نکل رہے ہیں

 

کبھی حکم حاضری ہو ہے عزیز بندہُ در

کہ نگاہ و دل میں آقا کئی خواب پل رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ