اردوئے معلیٰ

تشنہ لب بر ساحلِ دریا ز غیرت جاں دہم

گر بہ موج افتد گمانِ چینِ پیشانی مرا

 

اگر دریا کی لہریں دیکھ کر میرے دل میں

یہ شبہ بھی گزر جائے کہ دریا نے مجھے

دیکھ کر پیشانی پر بل ڈال لیے ہیں تو میری

غیرت کا یہ عالم ہے کہ پیاسا ساحل

پر جان دے دوں گا مگر حلق تر نہ کروں گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات