اردوئے معلیٰ

تصورات میں سرکار کے دیار میں ہوں

میں ہوش مند کبھی ہوں ، کبھی خمار میں ہوں

 

پلک جھپکنے کا لمحہ گراں گزرتا ہے

کہ مضطرب ہوں گہے اور گہے قرار میں ہوں

 

فضاے کوے مدینہ میں جو کہ ہوتا ہے

مرا نصیب تو دیکھو کہ اُس غبار میں ہوں

 

فقط کرم ہے یہ اُن کا کہ نعت ہوتی ہے

وگرنہ کیا مری وقعت ہے ، کس شمار میں ہوں

 

ثناے سرورِ عالم کا فیض مت پوچھو

مجھے یہ لگتا ہے رحمت کی آبشار میں ہوں

 

ملے گی بھیک مجھے بھی مدینے جاؤں گا

یہ آس دل میں جگائے ہوئے قطار میں ہوں

 

جھڑی لگی ہوئی اشکوں کی ہے قمرؔ شب سے

یہ خواب دیکھا مدینے کے مرغ زار میں ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات