اردوئے معلیٰ

Search

تصورات کے جنگل سے راستہ نکلے

کبھی مدار سے باہر بھی بھیڑیا نکلے

 

ترا بھلا ہو کہ تیری وضاحتوں کے سبب

مری شکست کے پہلو ہزارہا نکلے

 

تھی ایک عمر میں خواہش کہ کھل سکے کوئی

پر اب کے خوف ہے لاحق کہ کون کیا نکلے

 

کبھی زمین پہ جم کر کھڑے بھی ہو پائیں

چبھا ہوا ہے جو کانٹا جنون کا ، نکلے

 

جہانِ ترکِ تمنا کے راہ گم کردہ

ستم ظریف تمہاری گلی میں جا نکلے

 

ہزار بار جو پردہ الٹ سکے کوئی

ہزار بار ہی منظر کوئی نیا نکلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ