تمام آخرِ شب کو مری حیات ہوئی

تمام آخرِ شب کو مری حیات ہوئی

شکستِ خواب سے پہلے شکستِ ذات ہوئی

 

مرا ہی شاہ پٹا ہے مرے پیادوں سے

سرِ بساط بغاوت ہوئی تو مات ہوئی

 

میں جھٹپٹے کی خلا میں ٹھہر گیا ہوں کہیں

کوئی سحر نہیں پھوٹی نہ کوئی رات ہوئی

 

غبارِ مرگ میں تنہا سفر ضروری تھا

پسِ غبار مری ساری کائنات ہوئی

 

عروسِ شعر یونہی مہرباں نہیں ہوتی

لہو دیا ہے تو مائل بہ التفات ہوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ