اردوئے معلیٰ

تمنا دل کی بڑھتی جا رہی ہے

خلش دوری کی اب تڑپا رہی ہے

 

اکیلا تو نہیں میں نعت پڑھتا

چمن کی ایک اک شے گا رہی ہے

 

وسیلہ ان کا میرے کام آیا

کہ میری بات بنتی جا رہی ہے

 

مدینے کو اکیلا کب چلا ہوں

محبت بھی سفر پر جا رہی ہے

 

نہیں ہے دور اب وہ سبز گنبد

ہوا کانوں میں یہ بتلا رہی ہے

 

عطا تجھ پر کرم اب اور کیا ہو

جو نعتِ پاک لکھی جا رہی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات