اردوئے معلیٰ

Search

تمھارے شہر کے بازار تک نہیں پہنچا

یہ عشق آخری آزار تک نہیں پہنچا

 

یہ اور بات کہ بیٹھا ہے میرے پہلو میں

ابھی بھی تو مرے معیار تک نہیں پہنچا

 

یہ دشت ِ عشق ہے اور اس میں دھوپ کی شدت

وہ جانتا ہے جو دیوار تک نہیں پہنچا

 

ہر ایک شخص ہے انجام کا تمنائی

سوکوئی مرکزی کردار تک نہیں پہنچا

 

میں لڑ رہا ہوں ابھی ذات کے اندھیروں سے

سو تیری صبح کے آثار تک نہیں پہنچا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ