اردوئے معلیٰ

Search

تمہاری یاد سے دل کو ہیں راحتیں کیا کیا

تمہارے ذکر نے ٹالی ہیں مشکلیں کیا کیا

 

تمہاری دید کہاں، دیدہِ خیال کہاں

بنائی، پھر بھی خیالوں نے صورتیں کیا کیا

 

نظر خیال سے پہلے مدینہ جا پہنچی

دل و نگاہ میں دیکھی رقابتیں کیا کیا

 

اب اس مقام پہ ہم آگئے کہ ذکرِ رسول

جو ایک پل نہ ہو، ہوتی ہیں الجھنیں کیا کیا

 

بس ایک رات کا مہماں انھیں بنانے کو

زمیں سے عرش نے کی ہوں گی منتیں کیا کیا

 

تمہارے نام کا ٹھپہ لگا ہُوا پا کر

لگا رہے ہیں مری لوگ قیمتیں کیا کیا

 

گئے نہیں ہو مدینے ادیؔب تم لیکن

سُنا رہے ہو وہاں کی حکایتیں کیا کیا​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ