اردوئے معلیٰ

تمہارے درد سے اپنے ملال سے خائف

گزر رہی ہے عجب ماہ و سال سے خائف

 

جھجھک رہا ہے دریدہ دہن ، تکلم سے

وہ حال ہے کہ نظر ہے جمال سے خائف

 

تمہارا حسن مہربان ہے ، مگر دل ہے

تمہارے قرب سے لرزاں وصال سے خائف

 

حضورِ وقت کھڑا ہے شکست خوردہ جنوں

حسابِ سُود و زیاں کے سوال سے خائف

 

دھری ہے کرب کی دہلیز پر مسیحائی

طبیبِ عشق ہے اب دل کے حال سے خائف

 

بھلا کہاں سے کسی واقعے میں ڈھل پاتا

وہ ممکنات سے شاکی ، محال سے خائف

 

تمہارے حسن کی نوخیزیوں میں چھپتا ہے

مرا وجود ہے اپنے زوال سے خائف

 

صریرِ خامہ سے آتی ہے جھرجھری ناصر

میں اپنی سوچ سے اپنے خیال سے خائف

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات