تمہارے نقشِ قدم پر جو کارواں گزرے

تمہارے نقشِ قدم پر جو کارواں گزرے

بھٹک سکے نہ وہ منزل سے کامراں گزرے

 

کہیں سے اور بھی اب برقِ آسماں گزرے

ضرور کیا ہے سرِ شاخ آشیاں گزرے

 

بخیر راہِ محبت سے ہم کہاں گزرے

قدم قدم پہ بڑے سخت امتحاں گزرے

 

وہ غم نصیب تھا دنیا میں مَیں کے مرنے پر

مری لحد سے جو گزرے وہ نوحہ خواں گزرے

 

صعوبتوں کی وہ عادت پڑی طبیعت کو

سکوں کے لمحے ملے بھی تو کچھ گراں گزرے

 

چمک رہی ہے زمانہ کی ظلمتوں میں ہنوز

ہم ایسی چھوڑ کے رخشندہ داستاں گزرے

 

ہزار خار تھے دامن میں پھول تھے دو چار

جو ختم کر کے نظرؔ سیرِ گلستاں گزرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ