اردوئے معلیٰ

تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حُسینؑ کا ہے

فرات چھیننے والو! خدا حُسینؑ کا ہے

 

کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو

ثباتِ فرشِ عزا معجزہ حُسینؑ کا ہے

 

ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ہیں

اک آفتاب کا ہے ، اک نقشِ پا حُسینؑ کا ہے

 

جہاں بھی ذکر ہو اشکوں کے گُل برستے ہیں

یہ احترام نبی کا ہے یا حُسینؑ کا ہے

 

ذرا سا غور سے دیکھو شفق کی سُرخی کو

فلک پہ خوں سے رقم سانحہ حُسینؑ کا ہے

 

مرے لبوں کو بھلا خوفِ تشنگی کیوں ہو؟

مرے لبوں پہ تو نعرہ ہی یا حُسینؑ کا ہے

 

ستارۂ سَحَری جس کولوگ کہتے ہیں

فرازِ عرش پہ روشن دیا حُسینؑ کا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات