تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا

تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا

کسی کا کرتا نہیں ہے خدا تعالٰی برا

 

"​ہزار شکوے لکھے، پھر لکھا "​تمہاری ہوں

سو درج ذیل تو اچھا تھا، درج بالا برا

 

تمہارے بعد نظر پر کوئی حلال نہیں

ہمارے عشق کے مسلک میں ہے حلالہ برا

 

برے تو شہر میں مشہور ہیں برے لیکن

یہاں پہ صرف میں ہوں ایک اچھے والا برا

 

کھرچ دیا کہ مجھے بولنے سے روکتا تھا

مجھے زبان پہ لگنے لگا تھا چھالا برا

 

جناب کھائیے جتنا بھی، جو بھی ہاتھ لگے

مِرے سماج میں ہے صِرف پینے والا برا

 

جنابِ منصفِ اعظم! سزا بس اتنی سی؟

تمام شہر میں مٙیں ہوں حضورِ والا برا

 

وہ پیار میں بھی کوئی دشمنی نکالتا ہے

اِک اچھے شخص سے میرا پڑا ہے پالا برا

 

تمام رشتے بہت قیمتی بنائے گئے

اگر برا ہے تو دنیا میں صرف سالا برا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
کچھ تو اپنے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
الماری میں سُوکھے پھول نظر آئے
گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں
ہوا،صحرا،سمندر اور پانی،زندگانی
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے
بالفرض میں جنون میں بھر بھی اڑان لوں

اشتہارات