اردوئے معلیٰ

تمہی محبوبِ رب العالمیں ہو

دلِ انسان پر مسند نشیں ہو

 

یہی ہے منزلِ معراجِ مومن

تمہارے نقشِ پا پر خم جبیں ہو

 

تمہی ہو نازشِ جن و بشر بھی

تمہی آقا امام المرسلیں ہو

 

مرا مقصود ہو تیری اطاعت

تری ہر بات پر حق القیں ہو

 

جو تیرے عشق میں زندہ رہا ہو

پھر اُس کی موت بھی کتنی حسیں ہو

 

بھٹکتا در بدر آیا ہوں آقا

ترا در ہی مقامِ آخریں ہو

 

ذرا نظرِکرم اِس سرزمیں پر

کہ تم تو رحمت العالمیں ہو

 

مری نسلوں کی نظروں میں بھی آقا

مقدم ہو تو بس دینِ مبیں ہو

 

دمِ آخر ہو لب پر ذکر تیرا

ترے انوار کی بھی چودہویں ہو

 

شکیلؔ اچھے ہیں سب الفاظ تیرے

مگر کردار بھی تو دل نشیں ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔