تم مری زندگی میں بھی نہیں ہو

تم مری زندگی میں بھی نہیں ہو

اور اب شاعری میں بھی نہیں ہو

 

وصل کی خواہشوں سے نکلے تو

ہجر کی بے بسی میں بھی نہیں ہو

 

تم نے جب دوستی نہیں رکھی

تو مری دشمنی میں بھی نہیں ہو

 

میرے دل کے سکون کے موجب

تم مری خودسری میں بھی نہیں ہو

 

میں جو تم میں اگر کہیں نہیں ہوں

تم مری ڈکشنری میں بھی نہیں ہو

 

پہلے پہلی قطار میں تھے تم

اور اب آخری میں بھی نہیں ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو

اشتہارات