تم کیا جانو!

تم کیا جانو

رونے والو
درد کہاں،کب کس لمحے
کس پور میں آکر
اپنا آپ دکھا دیتا ہے
تم کیا جانو
تم کو تو بس خستہ حال پہ
رونا دھونا آتا ہے
تم کیا جانو
لاوارث سی خواہش کوئی
چھپ چھپ کر جب
ایک یتیمی کو روتی ہے
تم کیا جانو
درد سوتیلا بن کر کیسے
برتاؤ کرتا ہے اُس سے
تم کیا جانو
سرد ہوا میں
کن کن بھولے بسرے،
بچھڑے لوگوں کے غم یاد آتے ہیں
تم کیا جانو
غم کی درد بھری آغوش میں
پل بھر آنکھیں بند کرلینا
اور کبھی پھر کھول نہ پانا
تم کیا جانو یہ سب کیسا ہوتا ہے
صحرا میں اک تنہا پیڑ کے سائے میں
پل بھر کو بیٹھو
تو معلوم پڑے نا تم کو
کھوکھلے خالی پیڑ سے
صحراؤں میں جھلستی دھوپ اور
مردہ لُو کا قصیدہ آگے سنو
تو تم کو بھی معلوم پڑے نا
تم کو تو بس ہجر زدوں کا ماتم کرنا آتا ہے
تم کیا جانو درد پرستی کیا ہوتی ہے
تم کو تو بس اشک بہانے آتے ہیں
تم کیا جانو بے حالی اور
بے چینی کیا ہوتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اسکاٹ لینڈ
چلو اداسی کے پار جائیں
معذرت
حریمِ ناز
ہائے یہ رنج محبت کہ جسے پانے میں
جاگنے پر سبھی منظر ہوئے ریزہ ریزہ
بے بسی کے شہر میں ہم زندگی سے تنگ ہیں
!آبرودار دربدر، سائیں
وہی بالوں میں دو چُٹیاں، وہی اک ہاتھ میں اِملی
اگر تُو کہے تو