تنہائیوں میں جب بھی پڑھوں نعت مصطفیٰ

تنہائیوں میں جب بھی پڑھوں نعت مصطفیٰ

بخشے مجھے عجیب سکون نعت مصطفیٰ

 

آنکھوں میں آنسوؤں کے سمندر ابل پڑیں

قرطاس دل پہ جب بھی لکھوں نعت مصطفیٰ

 

عصیاں زدہ ہوں دل میں تمنا ہر گھڑی

پڑھتے ہوئے میں کا ش مروں نعت مصطفیٰ

 

ہر وقت ان کی یاد کے روشن دیے رہیں

بھیجا کرو درود کہوں نعت مصطفیٰ

 

اپنے نبی کے نام کی مالا جپا کروں

سب کچھ بھلا کی کہتا رہوں نعت مصطفیٰ

 

اے کاش زندگی کو وہ لمحہ بھی ہو نصیب

روضے پہ جا کے جب میں پڑھوں نعت مصطفیٰ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی
خدا کے واسطے لے چل صبا مدینے میں
پھر کرم ہوگیا میں مدینے چلا
معطّر شُد دل از بوئے محمّد
دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے
خالق کے شاہکار ہیں خلقت کے تاجدار
خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات