اردوئے معلیٰ

توصیفِ شہنشاہ دو عالم کا ہے اعجاز

توصیفِ شہنشاہ دو عالم کا ہے اعجاز

پہنچی سر افلاک مرے فکر کی پرواز

 

ہر صاحب عرفاں ہے ثنا خوانِ پیمبر

وہ قدسی لاہور ہو یا سعدی شیراز

 

جو مدح پیمبر کی نہ لذت سے ہو آگاہ

ہے اُس کی صدائے قلم اک نغمہ بے ساز

 

کس شوق سے پہنچی ہے سر شہر محمد

جذبوں کے بم و زیر میں ڈھل کر مری آواز

 

شاہانِ جہاں جس سے ہوئے لرزہ بر اندام

اُس در کی حضوری نے کیا مجھ کو سرافراز

 

کیا مجھ کو ڈرائیں گے زمانے کے حوادث

سلطان مدینہ ہیں مرے مونس و دمساز

 

کرتا ہوں میں اُس محسن کونین کی توصیف

خالد ! ہے مجھے اپنے مقدر پہ بہت ناز

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ