تو اپنے پیار کی خیرات کو سنبھال کے رکھ

تو اپنے پیار کی خیرات کو سنبھال کے رکھ

ترے فقیر نے اب زندگی بِتا لی بھی

 

کسی کی چشمِ ہوس پوش میں لچکتی ہے

تمہارے پھول سے نازک بدن کی ڈالی بھی

 

میں تیرے عشق کے مرقد پہ شعر کہتا رہا

کسی نے دور مری لاش نوچ ڈالی بھی

 

میں خود پہ چیخ رہا ہوں سخن کے پردے میں

غزل کے روپ میں دیتا ہوں خود کو گالی بھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ