تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

ہر عزت، عظمت تجھے روا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

 

تو اول بھی، تو آخر بھی، تو باطن بھی، تو ظاہر بھی

آغاز نہ ہے انجام ترا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

 

تو عالی بھی، تو والی بھی، تو باغِ جہاں کا مالی بھی

مشرق بھی ترا، مغرب بھی ترا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

 

ہر جانب تیری ہاؤ ہو، جس سمت بھی دیکھوں تو ہی تو

ہو بامِ حرم یا کوہِ صفا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

 

کیا حور و ملک، کیا جن و بشر، کیا نوری، ناری، خاکی سب

ہر اک کی زباں پر تیری ثنا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

 

معبود بھی تو، مسجود بھی تو، موجود بھی لا محدود بھی تو

میں خادم تو مخدوم مرا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

 

تو واجد بھی، تو ماجد بھی، تو یکتا بھی، تو واحد بھی

ہر چیز ہے فانی تجھے بقا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

 

محبوب بھی تو، مرغوب بھی تو، ہر شخص کا ہے مطلوب بھی تو

محتاج ترا ہر شاہ و گدا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

 

ثاقب کا ایمان یہی ہے، بخشش کا سامان یہی ہے

ہو ورد زباں، ہر صبح و مسا، سبحان اللہ، سبحان اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات