اردوئے معلیٰ

تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟

گویا کہ فسانے میں بڑے جھول رہے ہیں

 

تم محوِ تکلم جو نہیں ہو تو یہ کیا ہے

اشعار بھلا کس کی زباں بول رہے ہیں

 

آواز کھنکتی ہے سماعت میں ابھی تک

الفاظ ابھی کان میں رس گھول رہے ہیں

 

تُم درجہ ِ احسان کی تکمیل ، مجسم

ہم دستَ طلبگار ہیں ، کشکول رہے ہیں

 

بانہوں سی کشادہ ہیں طلسمات کی شاخیں

ہم دشتِ خرابات میں پر تول رہے ہیں

 

در یوزہ گرِ عشق کی تقدیر کے صدقے

وہ ذائقے چکھے ہیں کہ انمول رہے ہیں

 

عریاں ہوا جاتا ہے کوئی واقعی ناصر

یا بندِ قباء شمس و قمر کھول رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات