تو کیا بارش بھی زہریلی ہوئی ہے

تو کیا بارش بھی زہریلی ہوئی ہے

ہماری فصل کیوں نیلی ہوئی ہے

 

یہ کس نے بال کھولے موسموں کے

یہ رنگت کس لئے پیلی ہوئی ہے

 

سفر کا لطف بڑھتا جا رہا ہے

زمیں کچھ اور پتھریلی ہوئی ہے

 

سنہری لگ رہا ہے اک اک پل

کئی صوبوں میں تبدیلی ہوئی ہے

 

دکھایا ہے اگر سورج نے غصہ

تو بالو اور چمکیلی ہوئی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ