تو ہے مشکل کشا، اے خدا، اے خدا

تو ہے مشکل کشا، اے خدا، اے خدا

مجھ کو مجھ سے بچا، اے خدا، اے خدا

 

کب سے بھٹکا ہوا دشتِ خواہش میں ہوں

مجھ کو رستہ بتا ، اے خدا، اے خدا

 

کوئی دوبارہ ملنے کی توفیق دے

میں ہوں خود سے جدا، اے خدا، اے خدا

 

اپنے افلاک سے میرے ادراک سے

تو ہے سب سے بڑا، اے خدا، اے خدا

 

رنگِ خوابِ ہنر تیری رحمت سے ہے

تیری قدرت سے تھا، اے خدا، اے خدا

 

عاجزی کا اثر میری آواز میں

تو نے پیدا کیا، اے خدا، اے خدا

 

میں نے جو کچھ کیا، تیری تائید سے

مجھ سے جو کچھ ہوا، اے خدا، اے خدا

 

مجھ کو حیرت بھی دے، مجھ کو حسرت بھی دے

یوں تو سب کچھ دیا، اے خدا، اے خدا

 

جانے کب سے اٹھائے ہوئے ہے ظفر

بارِ دستِ دعا، اے خدا، اے خدا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

صبا کو کس نے چمن میں سبک خرام کیا
مجھے بھی بلایا ہے ، الحمد للہ
تعریف رب کی جس نے ، سارا جہاں بنایا​
خُدا کا خانہ کعبہ دِل کُشا ہے
خُدا کی عظمتوں کا ذکر کرنا
خدائے مہرباں کی ذاتِ باری
خدا کی حمد لکھنا، نعت کہنا
خدا سے دِل لگی جب تک نہ ہو گی
نہیں ہے دل رُبا کوئی خدا سا
خدا کا ذکر جس دل میں سمائے