تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں

تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں

ھمارے ساتھ پرندے نہائے بارش میں

 

کھڑے تھے دونوں طرف پَیڑ چھتریاں لے کر

کہ راستہ نہ کہیں بھیگ جائے بارش میں

 

مَیں اِتنے رنگ بکھرتے نہ دیکھ پاوں گا

خُدارا کوئی بھی تتلی نہ جائے بارش میں

 

چھُپے ھوئے تھے پسِ پیرھن جو شرما کر

وہ انگ رنگ بہت جھلملائے بارش میں

 

بڑا انوکھا رِدھم تھا برستی بُوندوں کا

ھوا نے رات بہت گیت گائے بارش میں

 

گئی رُتوں کی کوئی ایسی بات یاد آئی

نہ پھول پات نہ ھم مسکرائے بارش میں

 

برستے مینہ میں بھی اشکوں کی لَو بلند رھی

یہ وہ چراغ ھیں جو بجھ نہ پائے بارش میں

 

کسی کو آئی نظر کھلکھلاتی قوسِ قزح

کسی نے دیکھے اُداسی کے سائے بارش میں

 

خدا گواہ ہے کہ مَے جیسا لُطف دیتی ہے

تری بنائی ہوئی گرم چائے بارش میں

 

ھم آج بھیگ گئے سر سے پاؤں تک فارس

کسی کے غم نے وہ چھینٹے اُڑائے بارش میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

برف کے فرش پہ قدموں کو جما کر کھینچوں
الماری میں سُوکھے پھول نظر آئے
گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں
ہوا،صحرا،سمندر اور پانی،زندگانی
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے
بالفرض میں جنون میں بھر بھی اڑان لوں
غم کو شکست دیں کہ شکستوں کا غم کریں
دشتِ امکان سے گزر جائیں
غرورِ شب کو کھٹکتا تھا اور ہی صورت