اردوئے معلیٰ

تُو خالق بھی مالک بھی ہے بحر و بر کا

تُو ہی تُو ہے رزّاق جن و بشر کا

 

نہ مال اور زر کا، نہ شاہوں کے در کا

یہ بندہ ہے طالب،تری اک نظر کا

 

ہے تیری ہی قدرت سے لطفِ شب وروز

ترے دم سے ہی کیف شام و سحر کا

 

کسی اور سے میں نہ مانگوں گا مولا!

تُو رکھنا گدا مجھ کو اپنے ہی در کا

 

کرم مجھ پہ کر دے، کرم مجھ پہ کر دے

یہ ہے مدعا آصفِ بے ہنر کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات