تُو خالق بھی مالک بھی ہے بحر و بر کا

تُو خالق بھی مالک بھی ہے بحر و بر کا

تُو ہی تُو ہے رزّاق جن و بشر کا

 

نہ مال اور زر کا، نہ شاہوں کے در کا

یہ بندہ ہے طالب،تری اک نظر کا

 

ہے تیری ہی قدرت سے لطفِ شب وروز

ترے دم سے ہی کیف شام و سحر کا

 

کسی اور سے میں نہ مانگوں گا مولا!

تُو رکھنا گدا مجھ کو اپنے ہی در کا

 

کرم مجھ پہ کر دے، کرم مجھ پہ کر دے

یہ ہے مدعا آصفِ بے ہنر کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر طرف کائنات میں تم ہو
تُوں دُنیا دے باغ دا
گل میں خوشبو تری، سورج میں اجالا تیرا
نبی سے عشق میں روشن کیے اللہ نے میرے
اسم اللہ، میری جاگیر
اذانوں میں صلوٰتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم
خدا کی ذات پر ہر انس و جاں بھی ناز کرتا ہے
خدا موجود ہر سرِ نہاں میں
خداوندِ شفیق و مہرباں تو
خدا کا نام میرے جسم و جاں میں

اشتہارات