تُو مالک تُو مولا تُو رَبِِّ کریم

تُو مالک تُو مولا تُو رَبِِّ کریم

تُو رحمان و داتا، غفور و رحیم

 

عبادت کے لائق تری ذاتِ پاک

ازل سے ابد تک ہے تُو ہی قدیم

 

ترا شکر اے خالقِ بحر و بر

دِکھایا ہمیں جادئہ مستقیم

 

کیا تُو نے محبوبؐ ہم کو عطا

یہ احسان تیرا ہے کتنا عظیم

 

بچا لے خدایا ہمیں آگ سے

عطا کر دے فردوس و جنت نعیم

 

اُسی کے ہے اشفاقؔ زیرِ اثر

وہ صر صر ہو یا ہو وہ بادِ نسیم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
اللہ ! تو رَحْمٰنُ و رحِیْمْ
لبِ ازل کی صدا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ
میرے اشکوں میں مری فریاد، دل برسائے گا
حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا
کرم کا سائباں سر پر ہے میرے
خدا کی ذات کا فضل و کرم ہے
خدا کے گھر سے گرچہ دُور ہوں میں
خدا کے حمد گو گلشن چمن ہیں
خدا کی کبریائی ہے نگہ میں