اردوئے معلیٰ

تِری ہی شکل کے بُت ہیں کئی تراشے ہوئے

نہ پُوچھ کعبہِ دِل میں بھی کیا تماشے ہوئے

 

ہماری لاش کو میدانِ عشق میں پہچان

بجھی ہوئی سی ہیں آنکھیں تو دلخراشے ہوئے

 

بوقتِ وصل کوئی بات بھی نہ کی ہم نے

زباں تھی سُوکھی ہوئی، ہونٹ اِرتعاشے ہوئے

 

وہ کیسے بات کو تولیں گے، اور بولیں گے؟

جو پٙل میں تولے ہوئے اور پٙل میں ماشے ہوئے

 

تمام پیار کا الزام ڈالئے ہم پر

کہ عام لوگ ہیں ہم آپ تو مہاشے ہوئے

 

میں تیرے شہر سے نکلا تھا عین اُس لمحہ

ترے نِکاح پہ تقسیم جب بتاشے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ