اردوئے معلیٰ

تپتا صحرا ہوں، کرم کا کریں سایہ مجھ پر

تپتا صحرا ہوں، کرم کا کریں سایہ مجھ پر

کر دیا تنگ جہاں والوں نے رستہ مجھ پر

 

چاہتا ہوں کہ ملے اذنِ رسائی مجھ کو

آرزو ہے مِری ہوں ملتفت آقا مجھ پر

 

خواب میں دیکھتا تھا روز میں اِک نخلستان

جا کے پھر شہرِ نبی میں کھلا سپنا مجھ پر

 

گوبھٹکتا ہوں اندھیروں میں پہ ہے مجھ کو یقیں

کہ اجالوں کا وہی کھولیں گے عقدہ مجھ پر

 

جاں ہتھیلی پہ لئے ہوں کہ انہیں پیش کروں

جب سے واجب ہے ہوا عشق کا صدقہ مجھ پر

 

دے رہا ہوں میں اسی آس پہ دستک تنویر

وا کریں گے وہ درِ شہرِ مدینہ مجھ پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ